جیسی جنتا ، ویسے نیتا

جیسی جنتا ، ویسے نیتا
تکلف برطرف : سعید حمید
ایک پرانی کہاوت تھی ؛
جیسا راجہ ، ویسی پرجا ۔
وہ راجاؤں کا زمانہ تھا ، جب جنگوں کے ذریعہ
اقتدار پر قبضہ جمالیا جاتا تھا ۔
لیکن۔
زمانہ بدل گیا ،
ملک میں جمہوریت کا نفاذ ہوگیا ،
راجہ کی جگہ نیتا نے لے لی
اور جنتا کے ووٹوں سے نیتا چنے جانے لگے ،
نیتاؤں کے ہاتھوں اقتدار سونپا جانے لگا ،
اسلئے بدلتے ہوئے حالات و نظام کے ساتھ
وہ پرانی کہاوت بھی بدل گئے ،
آج کی کہاوت ہے ؛
جیسی جنتا ، ویسے نیتا ۔
اگر ہم آج کے ماحول میںاس پر غور کریں
تو سماج کےکئی طبقات کیلئے یہ کہاوت سچ
ثابت ہو رہی ہے ،
ان میں مسلمان بھی شامل ہیں ۔
آج ہمارا اکثر یہ سوال ہوا کرتا ہے ،
ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے ۔
اس پر یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے ،
کسی بھی طبقہ یا سماج میں لیڈر کہاں سے آتے ہیں ؟
ظاہر ہے ، اسی سماج یا طبقہ سے ،
لہذا ۔
عوام نے لیڈر کیلئے کچھ معیار مقرر کیا ہے ،
کہ ایک لیڈر کیسا ہونا چاہئے ،
تو پھر یہ بھی دریافت کرنا ضروری ہے
کہ کیا ذمہ دار شہریوں ، ذمہ دار ووٹروں
اور ذمہ دار عوام کیلئے بھی کوئی معیار ، پیمانہ ، ضابطہ
مقرر ہے یا نہیں ؟
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف نیتا کیلئے ہی سارے
پیمانہ ، معیار ، ضابطہ مقرر ہونے چاہئیں ،
جنتا کیلئے کچھ نہیں !!!
ایسا سماج ہی نیتا یا قائد یا لیڈر نہیں ہونے
کی شکایت کرتا رہ جاتا ہے ،
لیکن ۔
جس سماج یا طبقہ میں پہلے عوام بھی یہ سمجھتے ہیں ،
کہ ذمہ دار شہری ہونے کا جو معیار ہے ،
اس پر وہ بھی اتریں ،
ذمہ دار ووٹر کیلئے جو ضابطہ مقرر ہیں ،
ان کی وہ پہلے پیروی کریں ،
تو ایسا سماج و طبقہ از خود قیادت کو جنم دیتا ہے ،
اور ایسے سماج میں سے ہی ایسے لیڈر پیدا ہوتے ہیں،
جن کی عوام کی ایک بڑی تعداد خواہش کرتی ہے ۔
ایسا ذمہ دار و بیدار سماج غیر ذمہ دار
قیادت اور قائدین کو جنم نہیں دے سکتا ،
نا ہی موقعہ پرستوں کیلئے ایسے سماج میں قیادت
کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے ۔
اس لئے ۔
جیسی جنتا ، ویسے نیتا ، اس کہاوت کے پس منظر میں
مذکورہ بلا حقائق کا جائزہ لیا جائے ،
تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تمام طبقات جنہیں یہ شکایات ہے
کہ ان کا کوئی ( موثر اور قابل قبول ) لیڈر نہیں ہے ،
ذرا اپنا بھی محاسبہ کریں کہ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔
اگر جنتا کو شکایت نیتا سے ہے ،
تو نیتا کو بھی شکایت جنتا سے ضرور ہوگی ۔
(اب یہ الگ بات ہیکہ کچھ لوگوں کا خیال ہیکہ
جیسی جنتا ، ویسے نیتا نہیں ،
اصل معاملہ تو یہ ہیکہ
جیسے نیتا ، ویسی جنتا ۔
اب یہ بحث ہے کہ بڑا قصور وار کون ہے ؟
جنتا یا نیتا ؟
آج نیتا یہ کہتے ہیں کہ جنتا ہی راجہ ہے ،
اس لئے جیسا راجہ ویسی پرجا ، جیسے حالات کیلئے
جنتا راجہ ہی ذمہ دار ہے ،
ادھر جنتا کا کہنا ہےکہ نیتا ہی اصلی راجہ ہے ،
کیونکہ جنتا کے پاس تو صرف ایک ووٹ ہی ہے ،
جو پانچ برس میں ایک بار دیا جاتا ہے ،
اس لئے جنتا بھی پانچ برس میں صرف ایک بار
یعنی الیکشن کے موقعہ پر ہی راجہ بن جاتی ہے ،
لیکن بقیہ پانچ برس تو نیتا ہی راج کرتا ہے ،
اس لئے جمہوریت کا اصلی راجہ تو نیتا ہی ہے ،
خیر یہ بحث پہلے مرغی یا پہلے انڈہ ؛ جیسی ہی ہے ۔)
حقیقت یہ ہیکہ
جس سماج میں ذمہ داری کا احساس نہیںپیدا ہوگا ،
جس سماج کے عوام اپنے آپ کو ذمہ دار نہیں سمجھیں گے ،
جس سماج میں بیداری پیدا نہیں ہوگی ،
اس سماج یا طبقہ کو
ذمہ دار اور بیدار قائدین کہاں سے ملیں گے ؟
یہ تصویر کا دوسرا لیکن ایک تلخ پہلو ہے ،
جس کو محض عوام کی ناراضگی کے خوف سے
نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔
یہ ایک مرض جیسی علامت ہے ،
جس کا علاج ضروری ہے ،
اسے نظر انداز کرنا کوئی علاج نہیں ہے !!!
کیا ان اقوام کے ووٹرس جو مظلوم ہیں ،
جن کےحقوق پامال کئے جارہے ہیں ،
جن کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے ،
اس قدر غیر ذمہ دار ہوسکتے ہیں
کہ ووٹ کا سودا نوٹ کے عوض کریں ؟
اور ان اقوام کے افراد الیکشن کے دوران
روزانہ کی بناء پر اجرت لیکر کام کرنے والے
سیاسی مزدور بن جائیں ،
تو یہ بھی ایک طرح کا ظلم نہیں ہے ؟
ٓآج ہمارے ملک میں دولت کے سہارے
جمہوریت کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے ،
لیکن
اس ملک کے غریب اور بہوجن طبقہ کی
ایک بڑی تعداد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے ۔
اکثریت کی آواز کو نوٹوں کی جھنکار سے کچل دیا گیا ہے ،
لیکن اس ملک کی غریب اکثریت کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہے ۔
الیکشن کو آج ایک بڑا مفت میں طبقہ کھانے پینے ،
اور کچھ روپئے کمانے کا موقعہ سمجھ رہے ہیں ،
یہ اس جمہوریت کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں
فروخت کر دینے کےمترادف ہے !!!
جہاں تک مسلمانوں ، دلتوں ، اقلیتوں کا معاملہ ہے ،
وہ بھی الیشن کے دوران بہائی جانے والی سیاہ دولت
کے بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں ،
اپنے اہم موضوعات و مسائل کا گویا خود ہی سودا
کر لیتے ہیں ۔
اس لئے ۔
جب ظالم حکمراں مسلط ہوجاتے ہیں ،
تو یہ سوچنا ضروری ہے کہ اس میں ہمارا اپنا قصور
کس قدر ہے ؟
آخر ظالم حکمراں کیوں ، کب اور کن پر مسلط ہوتے ہیں ؟
غور کیجئے !!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں