منشیات فروشی سے قوم فروشی تک

منشیات فروشی سے قوم فروشی تک
تکلف بر طرف : سعیدحمید
ملت اسلامیہ ہند کی پیٹھ میں دو خنجر گھونپے گئے ہیں ۔
(۱) منشیات فروشی؛
(۲) قوم فروشی ؛
مقصد ہے قوم کو اندر سے اس قدر کمزور کردیا جائے ،
کہ وہ کسی بیرونی جارحیت کا مقابلہ نہیں کرسکے !!
اس کا مطلب ہی ہے کہ
یہ دونوں گروہ ؛ منشیات فروشوں اور قوم فروشوں کے
ملت اسلامیہ ہند کے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں ۔
منشیات فروش کون ہیں؟
جو مسلم علاقوں میں مسلمانوں کی نئی نسلوں کو
نشہ کا عادی بنا رہے ہیں ۔
قوم فروش کون ہیں ؟
قوم فروش وہ ہیں ؛ جو مسلمانوں میں مسلک و فرقہ
کے اختلافات کی آگ بھڑکا رہے ہیں ۔
مسلم اتحاد کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں ۔
مختلف عنوانات سے مسلمانوں کو مسلک کے نام پر
بانٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں ،
اس طرح وہ ملت اسلامیہ ہند کے اتحاد پر
شب خون مارنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
قوم کے اندر ہی اندر سرگرم یہ انتشار پسند عناصر
ملت کے دشمنوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں ۔
ان کا کام ہے ؛ قوم فروشی !!
اور ان دونوں عناصر سے قوم کو زیادہ خطرہ ہے ۔
بیرونی دشمن سے ہم الرٹ رہتے ہیں ،
لیکن ۔
اندرونی دشمن ہی جو قوم کا غدار ہوا کرتا ہے ،
زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا کرتا ہے ۔
یہ بات تاریخ سے بھی ثابت ہوتی ہے ۔
نواب سراج الدولہ کیوں مات کھا گئے ؟
ٹیپو سلطان کو شکست کیوں ہوئی ؟
تاریخ کے صفحات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے
کہ قوم کی شکست و رسوائی قوم کے غداروں کے تعاون کے بغیر
ممکن نہیں۔
کل ملت اسلامیہ ہند کو برٹش کا مقابلہ کرنا پڑا رہا تھا ۔
آج ملت اسلامیہ ہند برٹش کے ایجنٹو ں و دلالوں کی نسلوں
سے ہی ہے ، اسلئے تاریخ کا سبق یاد رکھنا ضروری ہے ۔
کل بھی ملت اسلامیہ کی شکست کی بڑی وجہ یہی تھے ،
کل پھر اگر ملت اسلامیہ کو شکست ہوئی تو یہی اندرونی دشمن
اس کیلئے بڑی وجہ ثابت ہوں گے ۔
آج ہم ماب لنچنگ کا شور مچا رہے ہیں ،
ماب لنچنگ کے مجرمین تو کبھی کسی ایک مسلمان کو پکڑ کر
اس کا قتل کردیتے ہیں ،
لیکن ۔
ہماری قوم میں ہی چھپے ہوئے منشیات فروش
میٹھے زہر (slow – oison ) سے روزانہ
کتنے ہی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ؟
اس پر ہماری توجہ بھی نہیں ہے ۔
ماب لنچنگ کے خلاف مسلمانوں کے جگہ جگہ
مظاہرے ضرور ہو رہے ہیں ،
لیکن ۔
اس سے ہی یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ
بھارتی مسلمان اندر ہی اندر کتنے خانوں میں بٹے ہیں۔
وہ متحد ہوکر ایک زبردست مظاہرہ بھی نہیں کر سکتے ؟
چھوٹے چھوٹے سینکڑوں ، ہزاروں مظاہروں سے کس کو
اور کیا فرق پڑتا ہے ؟
ایک متحدہ مظاہرہ ویسا ہو ، جیسا مسجد اقصی اور شاہ بانو کیس
کیلئے کسی زمانہ میں مسلمانوں نے کیا تھا ۔
کہا جاتا ہے ، اب ویسا مظاہرہ نہیں ہو سکتا ۔
کیوں ؟
مسلمانوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ بانٹ جو دیا گیا ہے ،
اور اس میں سب سے گھناؤنا کردار ان قوم فروشوں کا ہے ،
جنہوں نے مسلک اور فرقہ کی سپاری لی ،
اور مسلمانوں کو فرقہ و مسلک کی بنا ء پر منتشر کردیا ۔
جب روزانہ مسلمانوں کو مسلک اور فرقہ کے نام سے
ایک دوسرے سے لڑایا جائے گا ،
تو پھر اچانک ایک دن انہیںکسی ایک موضوع کیلئے
چاہے وہ ماب لنچنگ ہو ، یا بابری مسجد
متحد کیسے کیا جاسکتا ہے ؟
اس لئے حالانکہ ہر فرقہ و مسلک کے مسلما ن کا دل
ماب لنچنگ پر یکساں طور پرتڑپ رہا ہے ،
لیکن ۔
یہ ہمارے اندرونی اختلافات ہیں ،
خصوصاً مسلکی و فرقہ کے اختلافات کہ ہم کوئی ایک
متحدہ مظاہرہ نہیں کر پارہے ہیں ، جس سے حکام دہل جائیں ۔
کیا ا س صورتحال کے بعد بھی ہم نہیں جاگیں گے ؟
کیا ہم اپنا محاسبہ نہیں کریں گے ؟
کیا ہم اپنی کمزوریوں پر نظر نہیں دوڑائیں گے ؟
فی الحال ہم اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں
کہ کس طرح قوم کو منشیات فروشوں اور قوم فروشوں
سے نقصان پہنچ رہا ہے ؟ مسلمان اس پر توجہ دیں  !!!
ٹیپو سلطان نے برٹش سے چار جنگیں لڑی تھیں ۔
ان میں سے اول تین جنگوں میں اس نے برٹش افواج
کو کراری شکست دی تھی ۔
چوتھی جنگ میں وہ کیوں مات کھا گیا ؟
ایسی بری مات جس میں اس کا راج پاٹ بھی گیا ،
اور جان بھی گئی ؟
اس شکست کی بنیادی وجہ تھی غداری ،
ٹیپو سلطان کے اپنے لوگوں کی غداری ۔
اندر کے دشمن نے باہری دشمن کا کام آسان کردیا ۔
میر صادق جیسے لوگوں نے غداری کی ،
اور ایک بہادر بادشاہ ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی ۔
اسی طرح نواب سراج الدولہ کی شکست بھی غداری کا نتیجہ تھی ۔
میر جعفر کی غداری نے نواب سراج الدولہ کا اقتدار ختم کیا ۔
کیا میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ ختم ہوگئے ؟
جی نہیں ۔ آج تو ان کی تعداد میں بھاری اضافہ ہوچکا ہے ۔
اپنے مفادات کیلئے یہ لوگ قوم کا سودا کرتے رہے ہیں !!
نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کے زمانہ میں
بلیٹ (BULLET ) کے ذریعہ اقتدار کی جنگ ہوا کرتی تھی ۔
آج بیلیٹ (BALLOTT ) یعنی
ووٹ اقتدار کی جنگ کا ہتھیار ہے ۔
آج ملک میں  14.5%مسلمان ہیں ، جو اقتدار کا توازن
بن سکتے ہیں، کہ جس طرف جھکے اقتدار اس کی جھولی میں ۔
اس لئے ۔
مسلمانوں کی اس طاقت کو کمزور بنانے کیلئے مسلم دشمن
عناصر نے کتنے ہی میر جعفر ، میر صادق مسلمانوں کی صفوں میں
پیدا کر دئیے ہیں ، جو مسلک و فرقہ کے نام پر
14.5 %مسلمانوں کو ٹکڑوں ، ٹکڑوں میں بانٹ رہے ہیں ،
کہ ان کی سیاسی طاقت ختم ہوکر رہ جائے ۔
ایک طرف یہ قوم فروش عناصر ہیں!!
دوسری طرف منشیات فروش : جس طرح برٹش نے
چینی عوام کو افیم کے نشہ کا عادی بنا کر پوری قوم کو تبہ کردیا تھا ،
کسی زمانہ کے سپر پاور چین کی فوج بھی افیمچی بنا دی گئی ،
اور اسےایک مرتبہ نہیں ، دو دو بار برٹش فوج کے ہاتھوں
شکست فاش ہوئی ،
کیا سی طرح برٹش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
بھارت کے مسلمانوں کو بھی نشہ کا عادی بنا کر غلامی کی طرف
ڈھکیلا جا رہا ہے ؟
اگر آج اس سوال پر غور نہیں گیا تو کل مسلمانوں میں سوچنے
سمجھنے والا طبقہ بھی باقی نہیں رہے گا ،
اس رفتار سے منشیات کو مسلمانوں میں پھیلایا جا رہا ہے ،
لیکن۔
ہمارے علاقوں میں یہ کام میر صادق اور میر جعفر جیسے قوم
کے غدار ہی تو کر رہے ہیں ؟
یہ سمجھ لیجیئے کہ قوم حالت جنگ میں ہے !!
یہ بلیٹ (BULLET )کی نہیں بیلیٹ (BALLOTT )
کی جنگ ہے جس کا مقصد اقتدار پر مکمل قبضہ !!
مسلمان رکاوٹ نہیں بنیں اس کیلئے اگر تاریخ دہرائی جا رہی ہے ،
تو بہتر ہے کہ مسلمان ہوشیار ہوجائیں ،
منشیات فروشی سے قوم فروشی تک : حرکتیں وہی ہیں ؛
میر جعفر اور میر صادق والی ؛ اس لئے ؛
بہتر ہے کہ اندر کے دشمن سے پہلے ہی خبردار ہوجائیں،
ورنہ شکست یقینی ہوسکتی ہے !!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں