مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
تکلف برطرف : سعید حمید
جب ہماری دعا قبول نہیں ہوتی ہے ،
جب ظالم حکمراں مسلط کردئے جاتے ہیں ،
تو پھر باہر نہیں ، اندر دیکھنا چاہئے !!
اور جب یہ خبر کئی تصاویر کے ساتھ وائرل ہوئی
کہ ممبئی کے ناریل واڑی قبرستا ن کو منشیات کا اڈہ بنا دیا گیا ،
قبروں پر بیٹھ کر چلم کے دم لگائے جا رہے ہیں ،
قبروں کے اطراف نشہ کرنے کے بعد خالی بوتلوں
کے ڈھیر کے ڈھیر پھینکے جارہے ہیں ،
تب احساس ہوا کہ ظالم حکمراں کے مسلط کئے جانے
کی وارننگ بھی کام نہیںکر رہی ہے ۔
اب مسلمان خواب غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کیلئے
مزید کیا چاہتا ہے ؟
منشیات کا زور اور منشیات فروشوں کا اثر
ہمارے علاقوں میں اس قدر بڑھ چکا ہے ؟
اللہ خیر کرے !!
ویسے کیا ہم اس بات سے لاعلم ہیں،
کہ ہماری قبرستانوں ، درگاہوں ، علاقوں کو منشیات کے اڈوں
میں تبدیل کرنے والے مسلمان ہی ہیں ؟
جی نہیں۔!!
پوری قوم یہ بات جانتی ہے ،
لیکن ۔
خاموشی چھائی ہوئی ہے ،
کیونکہ یہ قوم اپنا اصلی کردار بھول چکی ہے ، گنوا چکی ہے۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے نشہ کے خلاف
سخت ترین سزا تجویز کی ہے ۔
نشہ کرنا حرام ہے ،
نشہ کروانا حرام ہے ،
نشہ پھیلانا حرام ہے ۔
نشہ کی عادت حرام ہے ،
نشہ کی تجارت حرام ہے ۔
اور مسلمان ہی یہ حرام کام کر رہے ہیں؟
تو پھر یہ کیسے مسلمان ہیں؟
مسلم علاقوں میں منشیات کا زوردیگر علاقوں سے
کچھ زیادہ ہی ہے ، یہ سبھی کہتے ہیں۔
بہت سے لوگ یہ کہتے ہیںکہ مسلم علاقوں میں
کسی سازش کے تحت نشہ کو فروغ دیا جا رہا ہے !!
لیکن۔
اس سازش کے آلۂ کار کون ہیں ؟
مسلمان ؟
مسلم علاقوں میں ڈرگس بیچنے والے
اور
ڈرگس خریدنے والے مسلمان ہی تو ہیں  !!
انہیں اسلامی تعلیمات کا پاس کیوں نہیں ؟
انہیں خوف ٍخدا کیوں نہیں ؟
انہیں یہ خوف کیوں نہیں کہ اگر نشہ کیا ،
یا پھر نشہ کا کاروبار کیا ،
تو پھر مرنے کے بعد اس کا بھی جواب دینا ہوگا ۔
مسلمان تو زندگی بھر آخرت کی تیاری کرتا ہے ،
اس لئے حرام کام اور حرام کاروبار سے بچتا ہے ۔
اگر ۔
آج مسلم علاقوں میں نشہ کا زور اس قدر بڑھ گیا ہے
کہ مزاروں ، درگاہوں اور قبرستانوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا ،
تو ایسی حرکتیں کرنے والے بھی تو مسلمان ہی ہیں ؟
انہیں خدا کا خوف نہیں ہے ۔
انہیں پبلک کا بھی ڈر نہیں ہے۔
قوم و ملت کا ڈرنہیں ہے ،
ہاں ، پولس کا ڈر ضرور ہے ،
اس لئے ۔
اب وہ قبرستانوں اور مزاروں کو آڑ بنا رہے ہیں ۔
وہاں اپنا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں ۔
دعائیں قبول نہیں ہوئیں ؟
ظالم حکمراں مسلط ہوگئے ؟
تو ذرا ہم اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں؟
اسلامک انویسٹمنٹ اور حلال انویسٹمنٹ کے نام پر
مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔
بنگلورو کے ہزاروں مسلمان اسلامک انویسٹمنٹ کے نام
پر ایک بار پھر برباد ہوگئے ۔
ان کی عید تو بس سمجھ لو محرم میں تبدیل ہوگئی !!
ان کی زندگی بھر کی کمائی اسلام اور اشتہار کے ذریعہ لوٹ لئے گئے ۔
اسلماک بنکنگ ، اسلامک انویسٹ منٹ ، حلا ل کمائی
کے نام سے گذشتہ دس پندرہ سالوں سے مسلمانوں کو دھوکہ
دینے والے یہ کون ہیں ؟
مسلمان ؛
ان میں عالمہ بھی ہیں اور عالم بھی ۔
اسلامک انویسٹمنٹ اور حلال کمائی کے نام پر
چلائی جانے والی PONZI – SCHEMES کی
وجہ سے لاکھوں مسلمان برباد ہوچکے ہیں،
مسلم قوم کو ہزاروں کروڑ روپوں کا دھوکہ دیا جاچکا ہے ۔
یہ دھوکہ باز کون ہیں ؟
مسلمان ہی ہیں ۔
جب مسلمان ایک دوسرے پر ہی ظلم کر رہے ہیں ،
تو پھر ۔
ان پر ظالم حکمراں مسلط نہیں ہونگے ؟
ہر مسلمان کی دلی خوہش ہوتی ہے ،
کہ اسے مقامات مقدسہ کی زیارت نصیب ہو !!
حج و عمرہ ادا کرے ،
اس کیلئے وہ زندگی بھر اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر
روپئے بچاتے ہیں ، پونجی اکٹھا کرتے ہیں ۔
لیکن ۔
آج کل تو یہ قصہ کچھ زیادہ ہو رہے ہیں ،
جب حج اور عمرہ ٹور والا مسلمانوں سے حج کے
یا عمرہ کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپئے اکٹھا کرتا ہے ۔
اور پھر اچانک دفتر بند کرکے بھاگ جاتا ہے ۔
حج اور عمرہ کے نام پر بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینے والے
کیا غیر مسلم ہوتے ہیں ؟
جی نہیں ، مسلمان ہی ہوتے ہیں ۔
لیکن ایسے مسلمان ، جنہیں کسی دوسرے مسلمان
ہر ظلم ڈھانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوا کرتی ہے ۔
تو پھر ان پر ظالم حکمراں کیوں نہیں مسلط ہونگے ؟
ماہ رمضان المبارک کو رحمتوں کا مہینہ کہا جاتا ہے ،
اس مہینہ میں نیکی کا صلہ کئی گنا ملتا ہے ،
اس لئے مسلمان اس ماہ مبارک میں نیک کام کیا کرتی ہیں۔
البتہ ۔
اس سال ہم نے کئی مسلم اکثریتی علاقوں اور شہروں کی خبر وں
پر نظر رکھی تو یہ مشاہدہ ہوا ،
ماہ رمضان المبارک میں بھی مسلمانوں کے آپسی جھگڑے،
مار پیٹ ، تکرار ، یہاں تک کہ قتل کے واقعات بھی ہوتے رہے ۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلواریں بھی نکلتی رہیں۔
مسلمان ایک دوسرے کا دشمن بنتا رہا ،
ماہ رمضان میں بھی ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کا
خون بہا دیا ، اسے تکلیف دی ، ایذا پہنچائی ۔
یہ کیسے مسلمان ہیں ؟
انہوں نے اسلام کو ، اسلامی تعلیمات کو ، اسلامی کردار کو
کیوں نہیں اپنایا ؟
ان کے قول و فعل میں اسلامی اسپرٹ کیوں نہیںہے ؟
کیوں وہ صرف نام کے مسلمان ہیں ؟
اسلئے ۔ ان کیلئے حالات آزمائش بن کر سامنے آرہے ہیں۔
لیکن ۔
ہم سدھرنے کیلئے تیار نہیں،
ہم اسلام کے راستہ پر ، سیدھے راستہ پر
چلنے کیلئے بھی تیار نہیں !!
اور ہمیں شکایت ہے کہ مسلمان کو مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،
اگر ۔
ہماری دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں !!
اگر ہم پر ظالم حکمراں مسلط ہو رہے ہیں،
تو ہم اس بات کی فکر کریں
کہ ہم اپنے آپ کو کیسے سدھاریں؟
اپنی اصلاح کیسے کریں ؟
 اپنی کمزوریوں کو کیسے دور کریں ؟
یہ وہی ملک ہے ، جہاں مسلمانوں نے ہزار سال
تک حکمرانی بھی کی تھی ،
یہ وہی ملک ہے جہاں مسلمانوں کے اخلاق و کردار
سے غیر مسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ مسلمان بن گئے ۔
آج اسی ملک میں مسلمان پریشان کیوں ؟
محکوم کیوں ؟ مظلوم کیوں ؟
کیونکہ ہم صرف نام کے مسلمان بن گئے ہیں،
ہم وہ پرانا اسلامی کردار واخلاق تو پیش کریں ؟
یہ ملک دوبارہ ہمیں گلے لگائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں