2018 میں 5 ہزار سے زیادہ کروڑپتی ہندوستان چھوڑکر فرار ہوئے

اشوک مہتا
مرکزی حکومت اور نریندرمودی انتخابی ریالیوں اور عوامی جلسوں میں عوام کے سامنے باربار یہ جھوٹ بولتے رہے کہ انہوں نے ہندوستانی معیشت اور ترقی کو راکٹ کی رفتار سے آگے بڑھایا ہے لیکن حقائق کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔ ایک جانب مودی خود کو ملک کا وزیراعظم نہیں بلکہ چوکیدار کہتے ہیں تو دوسری جانب چوکیدار کو چکمہ دے کر کرڑہا روپیوں کا غبن کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونے والوں کی گزشتہ سال کی تعداد نے مودی کے سارے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ ہندوستان کے کاروبار کے مواقع کو آسان بنانے یعنی ایز آف ڈوینگ بزنس کی درجہ بندی میں بڑی چھلانگ لگانے اور دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتی معیشت ہونے کے درمیان ایک حالیہ منفی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ملک چھوڑنے والے امیروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اکنامک ٹائمس کے مطابق سال 2018 میں ملک چھوڑنے والے امیروں کی تعداد کے معاملے میں ہندوستان دنیا کا تیسرا ملک بن گیا۔ گزشتہ سال تقریباً5000 کروڑپتی یاکثیر جائیداد والے اشخاص (ہائی نیٹ ورتھ )نے ملک چھوڑ دیا۔ یہ تعداد ملک کے کثیر جائیداد والے اشخاص کی تعداد کا کل دو فیصد حصہ ہے۔ وہیں نیو ورلڈنٹ ویلتھ کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں 7000 کروڑپتوں نے اپنی مستقل رہائش گاہ ہندوستان کی بجائے کسی اور ملک کو بنا لی۔ سال 2016 میں یہ تعداد 6000 اور 2015 میں 4000 تھی۔ گلوبل ویلتھ مائگریشن ریویو 2019 نامی اس رپورٹ کو افرویشیا بینک اینڈ ریسرچ فرم نیو ورلڈ نٹ ویلتھ نے جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں ملک چھوڑنے والے کثیر جائیداد والے اشخاص کی تعداد برطانیہ سے بھی زیادہ رہی جبکہ برطانیہ میں بریگزٹ کی وجہ سے سیاسی ہلچل کے حالات بنے ہوئے ہیں۔دراصل، پچھلے تین دہوں سے برطانیہ بڑی تعداد میں امیروں کو متوجہ کرنے کے معاملے میں سرفہرست ممالک میں شمارہوتارہاہے لیکن بریگزٹ کی وجہ سے پچھلے دو برسوں میں حالات بدل گئے ہیں۔ وہیں امیروں کی نقل مکانی کے معاملے میں چین پہلے نمبر پر ہے جس کی وجہ امریکہ کے ساتھ جاری اس کی تجارتی جنگ ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے ذریعے عاید نئے ٹیکس کی وجہ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے لئے حالات اور خراب ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت میں جاری نشیب وفراز کے درمیان روسی معیشت کے پھنسے ہونے کی وجہ سے امیروں کی نقل مکانی کے معاملے میں روس دوسرے مقام پر ہے۔ وہیں دوسری طرف دنیا بھر سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لئے امریکہ اور آسٹریلیا من پسند ممالک میں سب سے آگے ہیں۔ رپورٹ میں تیزی سے عدم مساوات میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کو ہندوستانی معیشت کا سب سے سنگین مسئلہ بتایا گیا ہے۔ دراصل ملک میں کثیر جائیداد والے اشخاص کے پاس ملک کی تقریباً آدھی جائیداد ہے۔ عالمی سطح پر یہ اعداد و شمار جہاں اوسطاً 36 فیصد ہے تو وہیں ہندوستان میں 48 فیصد ہے ، حالانکہ اس کے باوجود اگلے 10 برسوں میں ہندوستان کی کل جائیداد اچھے پیمانے پر بڑھنے کے آثار ہیں۔ گلوبل ویلتھ مائگریشن ریویو 2019 کے مطابق جائیداد پیدا کرنے کے معاملے میں سال 2028 تک ہندوستان برطانیہ اور جرمنی کو پیچھے چھوڑکر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ سوال شدت اختیار کرتا جارہا ہے جس طرح مودی حکومت گزشتہ 5 برسوں میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات کرتے ہوئے معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے کیا ایسے ہی حالات میں ہندوستان ترقی کی وہ منازل طے کرپائے گا جس کی اب پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ وہیں اگلے 10 برسوں میں اس اقتصادی اضافہ کو رفتار دینے میں دہلی، بنگلور اور حیدر آباد جیسے شہر اپنی خدمات فراہم کریں گے۔ حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور چین سے ہونے والی امیروں کی نقل مکانی تشویش کی بات نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی ملک جتنی تعداد میں اپنے امیروں کو کھو رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں پیدا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی جیسے ہی ان ممالک میں رہن سہن کی سطح سدھرے گی، امید ہے کہ امیر لوگ واپس آ جائیںگے۔ہندوستان سے فرار ہونے والے امیر افراد کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے کیونکہ اس ضمن میں ایم جے اکبر نے لوک سبھا میں بتایا تھاکہ وجئے مالیا، نیرو مودی، میہول چوکسی سمیت 31 کاروباری سی بی آئی سے جڑے معاملے میں ملک سے فرار ہیں۔بحیثیت وزارت خارجہ کے ذمہ دار اکبر نے جوبیان دیا تھا اس میں وجے مالیا، آشیش جوبن پتر، پشپیش کمار ودیا، سنجے کالرا، ورشا کالرا اور آرتی کالراکے نام گنوائے گئے تھے ۔لوک سبھا میں محمدبدرالدجیٰ خان، کوشل کشور، محمد سلیم اور رام داس تدس نے ملک سے فرار ہونے والے ایسے کاروباریوں کی جانکاری اور فہرست مانگی

اپنا تبصرہ بھیجیں