بیوہ اور اس کے حقوق

مولانا قا ضی محمد عبدالحئی قاسمی
بیوہ اور اس کے حقوق
اور تم میں سے جو ( مرد و عورت ) بے نکاح ہوں ان کا نکاح کردو ، ( النور : ۳۲) ایامیٰ کا مطلب کنواری عورت جس کا نکاح نہ ہوا ہو ، اسی طرح مطلقہ اور بیوہ عورتوں پر بھی ہوتا ہے ، ان سب کے نکاح کی ترغیب اس حکم میں موجود ہے ، گویا شریعت کا منشاء یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں کوئی مرد و عورت بے نکاح نہ رہے ؛ تاکہ بے راہ روی اور گناہ میں پڑنے کے راستے بند ہوں ، حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی اس طرح نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ، تین آدمیوں کی مدد اللہ کے ذمہ ہے :
(۱) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔
(۲) وہ غلام جو ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو۔
(۳) پاک دامنی کی خاطر نکاح کرنے والا۔
اس طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بھی یہ قول منقول ہے کہ تم لوگ غنا ( مالداری) کو نکاح میں تلاش کیا کرو۔
اسلام نے بیوہ کے جو حقوق عطا کئے ہیں ان میں سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ وہ دوبارہ نکاح کرکے پھر وہ عزت و آبرو کی زندگی گذارے ، جس سے وہ خاوند کے وفات کے باعث محروم ہوگئی تھی ، افسوس کہ مسلمانوں میں بعض ایسے خاندان بھی ہیں جو دوسرے جاہل قوموں کے زیر اثر بیوہ کے نکاح کو معیوب سمجھتے ہیں ؛ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا حکم دیا ہے ، ہاں اگر کوئی شرعی عذر کی بناپر نکاح نہ کرے تو وہ الگ بات ہے ، نکاح ثانی سے لوگ محض انگلیاں اْٹھائیں گے ، اللہ کے مقابلہ میں لوگوں کو زیادہ اہمیت دینا ہے یاد رکھئے لوگوں کے ڈر سے حلال چیز کو حرام کرلینا بے دینی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ نکاح ثانی کی اجازت عورت کے لئے ایک رحمت ہے کہ وہ بیوگی کے غم سے باہر نکل آئے اور دوبارہ سہاگنوں کی طرح پرسکون زندگی گزارے ۔
بیوہ کو اپنے نکاح کے معاملہ میں پورا اختیار ہے ، بیوہ کو ولی کی ضرورت بھی نہیں ، بیوہ معروف طریقہ سے جو رشتہ مناسب سمجھے وہاں نکاح کرسکتی ہے ، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، جو شخص کسی بیوہ یا مسکین کے لئے کوشش کرے ، وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے جو مسلسل بغیر کسی وقفہ کے نماز میں کھڑا ہو اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو کبھی روزہ نہ چھوڑتا ہو ، (بخاری و مسلم ) قرآن و حدیث یتیموں اور بیواؤں کی مدد کے فضائل سے بھرے ہوئے ہیں جب کسی یتیم و بیوہ کے ساتھ کسی بھلائی کا موقع ملے اس کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے۔ ( معاشرتی حقوق ، از : مولانا تقی عثمانی)
بیوہ عورت جب اپنی عدت چار مہینے دس دن گزارے اس کے بعد اس کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ شرعی حدود کے اندر آرائش اور زیبائش سے کام لے ، بیوہ کے بارے میں یہ سمجھنا کہ اب اسے بننے سنورنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہا جاہلانہ خیال ہے ، بیوہ کو بھی اچھا کھانے اچھا پہننے اور خوش و خرم رہنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا سہاگن کو ہے۔
بیوہ خواتین سے حسن سلوک اور ہمدردی کرنا ان کے بگڑے کام بنانے کی کوشش کرنا اور ان کی عزت کرنا ہر مسلمان کے لئے اجر و ثواب ہے ، صحیح بخاری میں عمر بن میمونؓ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا اگر خدا نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کی بیوہ عورتوں کو اتنا خوش حال کردوں گا پھر وہ میرے بعد کبھی بھی کسی کی محتاج نہ ہوگی۔ ( بخاری )
زید ابن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ بازار کی طرف گیا ، وہاں حضرت عمر ؓ کو ایک جوان عورت ملی اور کہنے لگی اے امیر المومنین میرا شوہر مر گیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے ، خدا کی قسم ان کے پاس ایک بکری کا پایہ بھی پکانے کے لئے نہیں ہے ، نہ ان کے پاس کھیتی ہے نہ دْودھ والا جانور میں خفاف بن ایماء غفاریؓ کی بیٹی ہوں میرا باپ صلح حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، یہ سن کر حضرت عمر ؓاس کے پاس کھڑے ہوگئے فرمایا مرحبا تمہارا نسب تو میرے نسب سے ملتا ہوا ہے ، پھر آپ ایک طاقتور اونٹ کے پاس آئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اس پر دو بوریاں رکھیں اور انھیں اناج سے بھر دیا اور ان کے درمیان اور کپڑے رکھ دیئے ، پھر اس کی رسی عورت کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایا کہ اسے لے جاؤ اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اس سے بہتر عطا کردے گا ، اس پر ایک آدمی نے کہا یا امیر المومنین آپ نے اس عورت کو بہت دے یا ، حضرت عمرؓ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے اس کے باپ اور بھائی کو دیکھا کہ انھوںنے ایک مدت تک ایک قلعہ کا محاصرہ کئے رکھا ، یہاں تک کہ اسے فتح کرلیا۔ ( بخاری )
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی بیوہ یامسکین کے لئے کوشش کرے ، وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور وہ اس شخص کی طرح ہے جو مسلسل بغیر کسی وقفہ کے نماز میں کھڑا ہو اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو کبھی روزہ نہ چھوڑتا ہو۔ ( بخاری و مسلم )
قرآن و حدیث میں یتیموں اور بیواؤں کی مدد کے فضائل بھرے ہوئے ہیں ، کسی یتیم اور بیوہ کے ساتھ کسی بھلائی کا موقع ملے اسے غنیمت سمجھنا چاہئے ، بشرطیکہ اس میں اپنی کوئی غرض پوشیدہ نہ ہو ، صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کام کیا جائے اور یہ سوچے کہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں