ماں … دعاؤں کی مشین

پروفیسر شمیم علیم
کسی بھی مذہب ، کسی بھی ملک ، کسی بھی طبقہ میں صرف یہی ایک نام ہے جس کے سامنے احترام سے ، عقیدت سے ، محبت سے سب کا سر جھک جاتا ہے ۔ہم سب کے ذہنوں میں ماں کا ایک تصور ہے۔ ماں پیکر محبت ہے ۔ مجسم قربانی ہے ۔ دیالو ہے ۔ اپنے سکھ دکھ کو بھول کر وہ صرف اپنے بچوں کی خوشحالی میں لگی رہتی ہے ۔ خود بھوکی رہتی ہے ۔ بچوں کا پیٹ بھرتی ہے ۔ خود رات رات بھر جاگتی ہے ۔ بچوں کو نیند کی آغوش میں سلاتی ہے ۔ وہ ایک کڑک مرغی کی طرح اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھتی ہے کہ کسی چیل کی نظر نہ پڑے۔
ماں کو ہم نے ایک دیوی بنادیا ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ماں بھی ایک انسان ہے ۔ اس کی بھی اپنی زندگی ہے ۔ اس کی بھی اپنی شخصیت ہے ۔ کبھی تو ایک پندرہ بیس سال کی لڑکی بھی ماں بن جاتی ہے تو کیا ہم اس سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اپنی ساری زندگی صرف ماں بن کر گزار دے ۔ نہ اپنے مستقبل کے کوئی خواب نہ دیکھے اس کی خوشیاں صرف بچوں کی خوشیوں تک محدود رہیں، وہ اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔ اس کی زندگی کی باگ ڈور اس کے بچوں کے ہاتھوں میں رہے۔
آج کل اکثر ماؤں کے ساتھ ہی ہورہا ہے ۔ بچے بڑے بھی ہوجاتے ہیں تو ماں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ماں نہ صرف ان کی دیکھ بھال کرے بلکہ ان کے بچوں کی بھی ۔ نانی دادی بنتے ہی اس کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں ۔ جو بچے پردیس میں رہتے ہیں وہ بھی اپنی ماؤں کو نہیں بخشتے ، اس نئے ماحول میں بلاکر زندگی درگور کردیتے ہیں ۔ صبح سے شام تک ماں ان کے بچوں کے ساتھ رہتی ہے اور بچے سمجھتے ہیں کہ ماں بہت خوش ہے ۔ ماں کو کھانا ، کپڑا اور گھر سے زیادہ اور کیا چاہئے ۔ یہاں ماں کے نہ تو کوئی دوست و احباب ہوتے ہیں جن سے وہ اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرسکے ۔ ماں ایک پتھر بن جاتی ہے گو کہ اس کے بھی جذبات و خواہشات ہیں مگر وہ ان کا گلا گھونٹ دیتی ہے ۔
جن بچوں کی مائیں ان کے ساتھ نہیں رہتیں وہ بھی کسی نہ کسی بوجھ کے تلے دبی رہتی ہیں ۔ بچے کچھ پیسے بھجوا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض پورا ہوگیا ۔ بہت سے بچے ماں کو دعاؤں کی مشین بنالیتے ہیں ۔ صبح سے فون آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اماں ہمارے لئے دعا کرو۔ اماں منے کی طبیعت اچھی نہیں ہے ۔ آپ وہیں سے پڑھ کر اس پر پھونکئے ۔ اماں میری نوکری چلی گئی دعا کیجئے مجھے جلد ہی کوئی اچھی نوکری مل جائے ۔ اماں کل ضمیر کا انٹرویو ہے ، دعا کیجئے وہ کامیاب ہوجائے ۔ اماں ریحانہ کا رشتہ کہیں جم نہیں رہا ۔ کتنے ہی پیام آئے مگر جمے نہیں، آپ ہمارے مرشد کے پاس جاکر کوئی تعوہذ بھجوایئے ۔ اماں میری بہو کو شادی ہوکر پانچ سال ہوگئے ، اب تک اولاد سے محروم ہے ، اماں حضرت بابا کی درگاہ پر منت مانگئے ۔ اماں رشید کی ریسیڈنسی کیلئے دعا کیجئے ۔ آج کل ڈاکٹری بہت مشکل ہوگئی ہے ۔ ریسیڈنسی نہیں ملی تو پڑھائی بے کار ہوجائے گی ۔ وہ ڈیپیریشن میں چلا جائے گا ۔ اماں یہاں گھر کا کام بہت ہوتا ہے ، دعا کرو کہ مجھے کوئی اچھی کام والی مل جائے ۔ اماں شرمین اور امان بہت لڑتے ہیں، دعا کرو اللہ انہیں نیک ہدایت دے ۔ دونوں خوش رہیں ۔
بہرحال ایسا کوئی موضوع نہ تھا جس کے لئے انہیں اللہ کے آگے ہاتھ ا ٹھاکر دعا نہ مانگنا پڑے ۔ اماں دن بھر جاء نماز بچھاکر سجدے میں گری رہتیں۔ رشید کی ریسیڈنسی کے لئے تو اماں چالیس دن تک جاء نماز سے اٹھی نہیں تھیں۔ تب جاکر کہیں اللہ نے ان کی دعا قبول کی ۔ اماں کو یوں تو گھر میں کچھ خاص کام نہیں تھا مگر وہ ہ میشہ مصروف رہتی تھیں۔ ان کا سارا وقت دعائیں مانگنے میں جاتا ۔ اللہ میاں بھی سوچتے ہوں گے کہ اس عورت کو کوئی اور کام نہیں۔ سارے وقت دوسروں کیلئے دعائیں مانگتی رہتی ہے ۔ اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی اور جب ماں کی دعائیں اثر دکھاتی ہیں تو بچے ماں کے اس احسان کو بھی پھول جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ تو سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔ بچوں کی خوش حالی کیلئے دعا کرنا تو ماں کا فرض ہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو خوش و خرم دیکھنا چاہتی ہے ۔
مگر ماں کو صرف ماں کے پنجرہ میں مت قید کردو۔ اسے ایک آزاد انسان کی طرح جینے دو۔ اس کے بھی کچھ اپنے خواب ہیں ۔ ان خوابوں کو مسمار نہ کرو ۔ اسے بھی موقع دو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکے ۔ ان سے اپنی خوشیوں کا محل بناسکے اور جب وہ اپنا رفیق حیات کھو دیتی ہے تو سب سے پہلے بچوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ وہ اب کہاں رہے گی ۔ اس کا اپنا گھروندہ تو ٹوٹ گیا ہے ، کسی بچے کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ کیا یہ گھروندہ پھر سے بن سکتا ہے ؟ دراصل ایک ساتھی کی ضرورت ضعیفی میں زیادہ ہوتی ہے ۔ اس لئے دنیا کے بہت سے ملکوں میں لوگ ستر اور اسی سال کی عمر میں بھی اپنا ساتھی ڈھونڈلیتے ہیں لیکن ہمارے معاشرہ میں یہ سوچنا بھی عیب ہے ، یہ ایک گناہ ہے اور ماں یہ گناہ بھی نہیں کرسکتی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زندگی کی باگ ڈور اب بچوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ اور شاید بچے نہیں چاہتے اس کی محبت کو کسی دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا اور پھر ماں ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ کبھی ایک بچے کے پاس کبھی دوسرے کے پاس اور بچے سمجھتے ہیں کہ ماں کو کچھ دن اپنے پاس رکھ لینے سے ان کا فرض اور قرض دونوں ادا ہوجاتے ہیں اور ماں سوچتی ہے کہ وہ اب ایک بنجارن بن گئی ہے ۔ اس کا اپنا کوئی گھر نہیں ۔ کوئی ٹھکانہ نہیں ۔ ہر تھوڑے دنوں میں اپنے آپ کو ایک نئے ماحول میں ڈھالنا پڑتا ہے ۔ ہر گھر کا الگ طریقہ ہوتا ہے ۔ بچے چاہتے ہیںکہ ماں ان کے ماحول میں ڈھل جائے ۔ وہ خود کبھی ماں کے ماحول میں ڈھلنا نہیں چاہتے ۔ ہر جگہ اسے ایک اجنبیت کا احساس ہوتا ہے ۔ ہر وقت ایک ڈر ایک خوف اس کے احساسات پر چھایا رہتا ہے ۔ کہیں اس سے کوئی غلطی نہ ہوجائے ۔ کہیں اس گھر کے قانون کی خلاف ورزی نہ ہوجائے ۔ بچے یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ اب اس عمر میں ماں کے لئے اپنے طور طریقے اور عادتیں بدلنا آسان نہیں۔ جو کھانا وہ بچپن سے کھاتے آئی ہے ، اب اسے کیسے چھوڑدے۔ اس کا رہن سہن نئے ماحول کے ساتھ بدلتے رہنا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے ۔ اسی لئے ماں گم سم ہوجاتی ہے ۔ کچھ نہیں بولتی اور بولے بھی تو کیا ۔ اس کے احساسات و جذبات کو کون سمجھتا ہے ۔ اس مشینی دنیا میں ماں بھی ایک مشین بن گئی ہے ۔ دعاؤں کی مشین !

اپنا تبصرہ بھیجیں