باغی لیڈروں کے تیورسے آقاؤں کی نیند حرام

ڈی کے سنگھ
باغی لیڈروں کے تیورسے آقاؤں کی نیند حرام
ہندوستان میں جیسے جیسے انتخابات کی تواریخ قریب آرہی ہیں ویسے ویسے کونسی جماعت سے کس قائد کو موقع دیا جائے گا اور کس پارٹی سے کس لیڈر کا پتہ کٹ ہوجائے اس ضمن میں راز پر سے پردے ہٹتے جارہے ہیں اور اس معاملے میں بھی برسراقتدار بی جے پی سب سے آگے ہے جس نے اپنے چند اہم اور سینیئرلیڈروں کا ٹکٹ کٹوادیاہے اور اس میں بھی سب سے آگے لال کرشن اڈوانی کا ہے جو کہ گجرات کے گاندھی نگر علاقے سے مسلسل بی جے پی کو کامیابی دلوارہے تھے لیکن اس مرتبہ بی جے پی نے اڈوانی کو باہر کا راستہ دیکھاتے ہوئے ان کے مقام پر پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ کو گاندھی نگر کی باگ ڈورسونپی ہے۔ پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے اور سیاسی کیرئیر ختم ہونے کے بعد اڈوانی خود اپنی جماعت اور وزیراعظم پر تنقید کرنا شروع کردیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف اڈوانی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر وہ لیڈرجوکہ اپنی اپنی جماعت سے ٹکٹ کی امید لگائے بیٹھا تھا اب ٹکٹ نہ ملنے کے بعد نہ صرف وہ باغی بن چکا ہے بلکہ وہ اپنی ہی پارٹی کا کھیل بگاڑسکتا ہے اور اس معاملہ میں بھی ریاست بہار کو سرفہرست مقام دیا گیا ہے۔
بہار میں اس مرتبہ سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے والے رکن پارلیمنٹ کئی نشتوں پر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) اور مہاگٹھ بندھن کے امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھیر سکتے ہیں۔این ڈی اے اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) قیادت والے عظیم اتحاد میں شامل جماعتوں نے اس مرتبہ ریاست کی40 لوک سبھا نشتوں میں سے نصف سے زیادہ نشستوں پر اپنے موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے کے اتحادیوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم کے تحت والمیکی نگر،گوپال گنج (محفوظ)، سیوان، گیا (محفوظ)، ویشالی، کشن گنج، سمستی پور، کاراکاٹ، سیتامڑھی اور اورنگ آباد جیسی کئی ایسی نشستیں ہیں، جہاں گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے ار کان پارلیمنٹ کو اس مرتبہ ان کی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔ ٹکٹ نہ ملنے والے یہ لیڈر فی الحال جہاں خاموش ہیں وہیں حامیوں کی نظریں بھی ان پر مرکوز ہیں ۔ بی جے پی کے22 میں سے 16 سبکدوش ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو ہی دوبارہ موقع ملا ہے اور چھ کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ اسی طرح کی صورتحال مہاگٹھ بندھن کی بھی ہے ۔ پچھلی مرتبہ آر جے ڈی نے27 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ اس مرتبہ20 نشسوں پر ہی اس کی دعویداری ہے ، جن میں سے ایک آرا نشست ہے اس نے کمیونسٹ پارٹی (مارکسی۔لینن) کے لئے چھوڑ دی ہے ۔آر جے ڈی کے کئی بڑے لیڈر اس مرتبہ انتخابات نہیں لڑ رہے ہیں۔ اس مرتبہ آر جے ڈی اور کانگریس نے مہاگٹھ بندھن میں قومی لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی)، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) اور وکاس شیل انسان پارٹی کے شامل ہونے سے گزشتہ انتخابات کے مقابلے کم نشستوں پر دعویداری پیش کی ہے ۔ اس مرتبہ تال میل کے تحت این ڈی اے کے اتحادی پارٹیوں کے کھاتے میں جانے سے والمیکی نگر کے حلقے سے بی جے پی کے موجودہ ایم پی ستیش چندر دوبے ، جھنجھارپور سے وریندر کمار چودھری، گوپال گنج (محفوظ) سے جنک چمار، سیوان سے اوم پرکاش یادو اور گیا (محفوظ) سے ہری مانجھی کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ سمستی پور اور کاراکاٹ کی سیٹ عظیم اتحاد میں شامل آر ایل ایس پی کے کھاتے میں گئی ہے جبکہ سیتامڑھی سیٹ آر جے ڈی کے ہی پاس ہے ۔ وہیںکانگریس نے اورنگ آباد لوک سبھا حلقے سے گزشتہ انتخابات میں امیدوار رہے نکھل کمار سنگھ کو امیدوار نہیں بنایا ہے ۔ یہ نشست ہم پار ٹی کے حصے میں گئی ہے ۔ یہ صورت حال صرف بہار کی نہیں ہے بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جس کے بعد یہ بہ آسانی کہا جاسکتا ہے کہ ہر پارٹی کا باغی لیڈر اسی پارٹی کی کشتی ڈبوسکتا ہے۔