جس بچے کے ہاتھ نہ ہوں ماں اس کو بھی لکھنا سکھا سکتی ہے

محمد مصطفی علی سروری
پوتُل گوہادی دوسری بار ماں بننے والی تھی۔ ہر ہندوستانی عورت کی طرح اس خاتون نے بھی اپنے دوسرے بچے کے متعلق بہت سارے خواب دیکھے تھے کہ وہ ایک لڑکا ہو تو اچھا ہوگا۔ پوتل کا شوہر کسی بڑے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ روزانہ مزدوری کر کے لاتا تو گھر کا خرچہ چلتا تھا۔ وہ بھی بڑا خوش تھا کہ اب اس کے گھر ایک نیا مہمان آنے والا ہے۔ اس کی بیوی جب دواخانہ میں زچگی کے لیے شریک ہوئی تو وہ بھی ساتھ تھا۔ تھوڑی دیر بعد دواخانے کے نرسس نے اس کو بتلایا کہ وہ ایک لڑکا کا باپ بن گیا ہے۔ اتنا سنتے ہی پونل گوہادی کے شوہر سوجن کمار کے چہرے پر خوشی پھیل گئی لیکن نرسیس نے آگے یہ بتلایا کہ اس کا بچہ صحت مند نہیں بلکہ معذور ہے۔ تو سجن کمار کے چہرے کی خوشی کہیں غائب ہوگئی۔ ادھر پوتل گوہادی نے ہو ش میں آتے ہی نرس کو آواز دی اور اپنے بچے کے بارے میں پوچھنے لگی۔ نرس کو ماں کی طبیعت کے بارے میں پتہ تھا اس لیے اس نے کہا کہ ابھی بچے کو خاص نگہداشت والے وارڈ میں رکھا گیا ہے اور وہ تھوڑے دن بعد ہی اپنے بچے کو دیکھ سکے گی۔ ڈاکٹر چاہتے تھے پہلے پوتل کی طبیعت سنبھل جائے پھر اس کو خبر دی جائے۔ لیکن ادھر پوتل تھی کہ مسلسل ایک ہی بات کہی جارہی تھی کہ مجھے میرا بچہ چاہیے۔ دو دن کے بعد آخر کار ڈاکٹرس نے پونل کو اس کا بچہ حوالہ کردیا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈاکٹرس کو ڈر تھا۔ پہلے تو پونل بڑی خوش ہوئی کہ اس کو لڑکا ہوا لیکن جب اس کی نظر اپنے بچے کے جسم پر پڑی تو پھر بے ہوش ہوگئی۔ پونل کے بچے کے دونوں ہاتھ نہ ہونے کے برابر تھے اور وہ بھی پیچھے کی جانب مڑے ہوئے تھے۔ پھر زیادہ وقت گذرا بھی نہیں ماں نے اپنے معذوربچے کو ہی گلے لگالیا۔
ماں تو ماں ہوتی ہے پوتل نے اپنے بچے کو معذوری کے ساتھ قبول کرلیا۔ لیکن اس کے خاندان والے کہنے لگے کہ یہ بچہ زیادہ دن نہیں جی سکتا کیونکہ وہ تو بالکل معذور ہے۔ پوتل اور اس کے شوہر نے اپنے بچے کا نام پارلے رکھا۔ اور اس کے ہاتھ کیوں صحیح نہیں ہے ڈاکٹرس کو بتلایا۔ ڈاکٹر نے جب پارلے کا علاج شروع کیا تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ پارلے کے باپ کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ اب اس کالڑکا عمر بھر کے لیے معذور ہی رہے گا اور زندگی بھر دوسروں کا محتاج بنا رہے گا۔
پوتل گوہادی پہلی بار ماں نہیں بنی تھی۔ پارلے کی پیدائش سے پہلے بھی اس کو ایک لڑکی ہوئی تھی ۔ مانیکادے، بالکل صحت مند تھی۔ لیکن پوتل کو لڑکا ہوا تو وہ بھی معذور نکلا۔ لیکن دنیا بھر کی امیدوں کے خلاف پوتل نے اپنے بچے کی صحت اور عام زندگی کے متعلق خواب دیکھنے شروع کردیئے۔ پوتل گوہادی نام کی خاتون نے اپنے اس بچے کی زندگی بہتر بنانے کے منصوبے بنانے شروع کردیئے۔ جس کا جسم معذور ہے اور اس کے ہاتھوں کی جگہ صرف برائے نام ایک انگلی ہی تھی۔ پوتل غریب تھی، اپنے معذور بچے کو کسی ہیلتھ کیئر سنٹر پر تو چھوڑ نہیں سکتی تھی۔ اس لیے اس ماں نے اپنے بچے کی پرورش گھر پر ہی کرنے کا فیصلہ کیا اور پرالئے صرف اپنے ہاتھوں سے معذور تھا لیکن اس کا دماغ اور بقیہ جسم سبھی بچوں کی طرح صحت مند تھا۔ ماں کی اپنے معذور بچے کی زندگی کو اچھا بنانے کی خواہش نے رنگ دکھانا شروع کیا اور تین سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے پرالئے نے اپنی مادری زبان بنگلہ کے ساتھ ساتھ انگریزی کے حروف تہجی لکھنا سیکھ گیا تھا۔
قارئین جی ہاں ! پرالئے اپنے دونوں ہاتھوں سے معذور تھا، اس لیے اس کی ماں نے اس کو اپنے پائوں میں قلم پکڑنا سکھایا۔ جیسا ماں نے سکھایا پرالئے نے ویسا ہی پائوں سے لکھنا شروع کردیا۔
کہنے کو پرالئے کے ہاتھوں میں ایک ایک انگلی بھی تھی لیکن وہ اپنی ان انگلیوں سے ایک چمچہ بھی نہیں پکڑ سکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے ہاتھوں سے معذوری کو اپنی زندگی کے سفر میں رکاوٹ بننے نہیں دیا اور آج پرالئے کی عمر 17 برس ہوچکی ہے تو وہ اپنے ہم عمر بچوں کی طرح دسویں جماعت کا امتحان لکھ رہا ہے۔
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ سے تعلق رکھنے والی پونل اور سجن کمار کا لڑکا پرالئے اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’میں اپنے آپ کو کسی سے پیچھے نہیں سمجھتا ہوں۔ میری ماں اور میرے ٹیچرس نے مجھے اچھا سکھایا ہے۔ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں اور ہر روز اپنے پائوں میں قلم پکڑ کر لکھنے کی دو گھنٹے پریکٹس کرتا ہوں اور مجھے اپنے پائوں سے لکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔‘‘ (بحوالہ دیب راج کی رپورٹ ۔ مطبوعہ 15؍ مارچ 2019ء اخبار انڈین ایکسپریس)
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی چندراپور کے ہائی اسکول میں دسویں کے بورڈ کے امتحان کا سنٹر پڑا ہے۔ اسکول ہیڈ ماسٹر بادل چکربورتی کو جب معلوم ہوا کہ ان کے اسکول میں پرالئے نام کا ایک طالب علم بھی امتحان لکھنے والا ہے جو ہاتھوں سے معذور ہے تو انہوں نے امتحان کے ریگولیشن کے حساب سے پرالئے کے لیے ایک رائٹر کا انتظام کرلیا، کہ پرالئے امتحان کے دوران سوالات کا جو بھی جواب بولے گا وہ ایک رائٹر لکھتا جائے گا لیکن بادل چکربورتی کو اس وقت تعجب ہوا جب پرالئے نے رائٹر کی خدمات لینے سے منع کردیا اور کہا کہ وہ اپنا امتحان خود لکھے گا۔ ہیڈ ماسٹر پریشان تھے کہ پرالئے نے خود امتحان لکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی 32 سال کی سروس میں ایسا نہیں دیکھا تھا کہ ایک ہاتھوں سے معذور لڑکا ہے اس کو رائٹر کی سہولت مل رہی ہے لیکن وہ خود امتحان اپنے پیر میں قلم پکڑ کر لکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔ سارے اسکول کی ڈیوٹی چھوڑ کر اسکول کے ہیڈ ماسٹر بادل چکربورتی پرالئے کے پیچھے کھڑے رہے اور امتحان کے ابتدائی 30 منٹ غور سے دیکھتے رہے کہ آخر پائوں میں (Pen) پکڑ کر یہ لڑکا کیسے لکھ پائے گا۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس اخبار کو بتلایا کہ ’’پرالئے چونکہ بنچ پر بیٹھ کر نہیں لکھ سکتا تھا تو ہم نے اس کے لیے لکڑی کا الگ سے پلیٹ فارم کا انتظام کیا تھا۔ اس کی امتحان میں جوابات لکھنے کی رفتار اور ذہانت کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوگیا وہ جسمانی طور پر معذور ہوسکتا ہے لیکن اس کی صلاحیت اور دماغ کسی سے کم نہیں۔‘‘
پرالئے کی ماں نے بتلایا کہ پرالئے نے اپنے اسکول ٹسٹوں میں 80 فیصدی مارکس حاصل کیے اور پرالئے 10 ویں کے بعد آگے پڑھنا چاہتا ہے۔ سماجی علوم میں اس کو بڑی دلچسپی ہے اور وہ آگے بڑھ کر انگلش زبان کا پروفیسر بننا چاہتا ہے۔ قارئین خود پرالئے کی ماں اپنے بچے سے کیا چاہتی ہے وہ بھی جاننا دلچسپی سے خالی نہیںہوگا۔ اخبار انڈین ایکسپریس کی 15؍ مارچ کی رپورٹ کے مطابق پرالئے کی ماں چاہتی ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے۔ آگے اسی کی مرضی۔
قارئین پرالئے کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ 17 برس کی عمر کو پرالئے ایسے ہی نہیں پہنچا۔ پرالئے کی ماںپوتل نے صرف اس کی تعلیم و تربیت کا ہی کام نہیں کیا بلکہ اپنے شوہر اور بیٹی کی بھی ہر طرح سے مدد کی۔ صحت خراب ہوجانے کی وجہ سے پرالئے کا باپ کام نہیں کرپارہا تھا۔ لیکن اس کی ماں نے گویا اپنی زندگی کا ایک ہی سبق بنالیا تھا کہ شکایت کسی کی نہیں ۔ بس آگے بڑھ کر دکھانا ہے۔ پوتل گوہادی نے آنگن واڑی اسکول میں ہیلپر کا کام کرنا شروع کیا۔ اپنی نوہزار کی تنخواہ میں پرالئے کی ماں نے پرالئے کی تعلیم کا انتظام کیا۔ اپنی بڑی لڑکی کو کالج کی تعلیم کے لیے بھیجا، گھر کے خرچ کو سنبھالا اور بیمار شوہر کی دیکھ بھال کی۔ مگر زبان سے حالات کا رونا نہیں رویا۔
قارئین ! تریپورہ کی اس باہمت خاتون کے لیے کئی آسان راستے بھی تھے۔ وہ اپنے معذور بچے کی پیدائش پر رودھو کر قسمت کو دوش دے سکتی تھی اور اس بچے کو لوگوں سے ہمدردی اور پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بناکر آرام کرسکتی تھی۔ لیکن ہاتھوں میں انگلیاں نہ ہو تو اس عورت نے اپنے بچے کو پائوں میں قلم پکڑنا سکھایا اور پائوں سے ہی لکھنا سکھایا۔ جس بچے کی مادری زبان بانگلہ ہو اس کو انگریزی ایسے پڑھائی اور سکھائی کہ وہ بچہ بڑا ہوکر انگریزی سے ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگریزی کا ہی استاد بننا چاہتا ہے۔ یہ چاہت کس نے پیدا کی؟ جی قارئین ! اس سوال کا جواب ڈھونڈئے ۔ مسلمانوں کو بھی آگے بڑھنے کا راستہ نظر آجائے گا۔ جب کسی قوم میں مائیں عزم کرلیتی ہیں تو دنیا کی ہر طاقت ان کے قدموں میں جھک جاتی ہے۔ اور جب ماں کے لیے صبح اٹھ کر اپنے ہی بچوں کے لیے کھانا پکانا مشکل ہوجائے تو کیا ہوتا ہے؟ ایس ایس سی 2019ء کے ریاست تلنگانہ بھر میں سالانہ امتحانات جاری تھے۔ ایک امتحانی سنٹر کے ذمہ دار ٹیچر بتاتے ہیں، ساڑھے نو بجے سے امتحان کا آغاز تھا اور عین وقت پر جب اسکول کی گیٹ بند کی جارہی تھی ایک لڑکا امتحان لکھنے کے لیے دوڑتا آتا ہے۔ لڑکے کو امتحان ہال میں بیٹھنے کی اجازت دے کر جب ٹیچر نے لڑکے کو ساتھ لانے والے فرد سے ماجرا پوچھا تو پتہ چلا کہ لڑکے کی ماں کی نیند صبح جلد نہیں کھلی اور جب جاگے تو دیر ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے بچے کوہوٹل میں لائٹ ناشتہ کرواکر سنٹر لاکر چھوڑا۔ اس وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ ٹیچر نے سوچا کہ شائد لڑکے کی ماں کی طبیعت خراب ہے، اس وجہ سے تاخیر ہوئی ہوگی۔ تو انہوں نے ازراہِ ہمدردی پوچھ بھی لیا کہ کیوں بھائی کیا ہوا بچے کی امی کو؟ جواب سن کر انہیں بڑا تعجب ہوا کہ لڑکے کی ماں دراصل ایک دن پہلے دعوت میں گئی تھیں اور رشتہ داروں کی شادی سے لوٹتے وقت رات کافی دیر ہوگئی، اس وجہ سے صبح اٹھنے میں اتنی دیر ہوگئی کہ گھر پر کھانا نہیں بن سکا اور لڑکے کے والد لڑکے کو ہوٹل سے ناشتہ کرواکر امتحان کے سنٹر پر چھوڑ رہے ہیں۔ یہ کیا ماجرا ہے کہ ہماری مائوں کے لیے بچوں کے امتحان سے زیادہ اہم دعوتیں ہوگئیں؟ میری آخر میں خدائے تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کی بے حسی کو دور فرمائے او رہمیں اپنی مصیبتوں کا رونا رونے کے بجائے آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرنے والا بنائے۔ اپنی محرومی کا راگ الاپنے کے بجائے خدائے بزرگ و برتر کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنائے اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے والا بنائے۔ (آمین یا رب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
sarwari829@yahoo.com