آج کا عراق : اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش

آج کا عراق : اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش
منور حیات سرگانہ ( پاکستان )
ملکی سیاست اور حالات پر کافی کچھ پڑھ چکے ہوں گے آپ، چلیے کچھ دیر کے لئے آپ کو ان بور موضوعات سے دور لئے چلتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہی ماہ کچھ دن عراق میں گزارنے کا موقع ملا۔ پہلے آپ عراق کی مختصر تاریخ اور تعارف جان لیجیے، اس کے بعد آپ کو موجودہ عراقی معاشرت کی کچھ دلچسپ چیزوں سے روشناس کراتے ہیں۔موجودہ جمہوریہ عراق کا قدیمی نام میسوپوٹیمیا ہے یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے، دو دریاوں کے بیچ کی زمین۔ کیونکہ عراق کا زرخیز ترین علاقہ دریائے دجلہ و فرات کے درمیان کا علاقہ ہے، جہاں قدیم سمیری، اکادی، اسیریائی، کلدانی، ساسانی اور بابلی تہذیبیں پروان چڑھیں، تو اس لئے اسے ”مابین النہرین“ یا ”میسوپوٹیمیا“ کے نام سے پکارا گیا۔ بابلی تہذیب میں حمورابی کے دور میں یہیں سے باقی دنیا کو ابتدائی شہریت کے قوانین دیے گئے۔ اسی علاقے سے لکھنے کا آغاز ہوا اور ابتدائی ریاضیاتی علوم اور علم فلسفہ پروان چڑھا۔عراق انبیاء کرام کی سر زمین بھی ہے۔ حضرت آدمؑ نے اسی ملک کے علاقے ”قرنہ“ میں سکونت اختیار کی اور طوفان نوح اسی علاقہ سے اٹھا۔ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، اور حضرت خضرؑ کا تعلق بھی اسی دھرتی سے تھا۔کچھ عرصہ یہ ملک سائرس اعظم کی سلطنت کا حصہ رہا، تو کچھ عرصہ سکندر کے زیر نگین۔ ایرانیوں نے بھی یہاں حکمرانی کی۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمانوں نے اسے فتح کر لیا۔ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسی ملک کے شہر کوفہ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔ اور بعد میں اموی اور عباسی حکمرانوں نے بغداد کو دارالحکومت بنا کر یہاں حکومت کی۔
بالآخر 1258 ء میں منگول حملہ آور ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کر کے اس کو برباد کر دیا۔ کئی سو سال یہ ملک ترک عثمانی خلافت کے زیرنگین رہا۔ حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا۔3 اکتوبر 1932 ء کو اسے انگریزوں سے آزادی مل گئی۔ اور انگریزوں نے شریف مکہ کے بھائی شاہ فیصل کو یہاں کا حکمران بنا دیا۔ 1958 ء میں پہلی فوجی بغاوت ہوئی اور بادشاہت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ 1963 ء میں دوسری فوجی بغاوت کے بعد ملک بعث پارٹی کے قبضہ میں چلا گیا۔ بعث پارٹی کے صدام حسین 2003 تک یہاں کے حکمران رہے۔ یہاں تک کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام لگا کر امریکہ نے تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک پر قبضہ کر لیا۔

2005 ء میں یہاں انتخابات کرا کے برائے نام اختیار رکھنے والی ایک جمہوری حکومت قائم کر دی گئی۔ اس حکومت کے موجودہ صدر ”برہم صالح“ اور وزیراعظم ”عادل عبدالمہدی“ ہیں۔ موجودہ جمہوریہ عراق کا کل رقبہ 438317 مربع کلو میٹر ہے۔ اور آبادی تقریباً 39000000 نفوس پر مشتمل ہے۔ انتظامی طور پر ملک کو 18 محافظات (یہ لفظ صوبے کا متبادل ہے ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نسلی اعتبار سے 75 سے 80 فی صد آبادی عرب، 15 سے 20 فی صد کرد اور پانچ فیصد ترک اور اسیریائی وغیرہ ہیں۔

مذہبی اعتبار سے 97 فیصدی آبادی مسلمان، ان میں سے 60 سے 65 فی صد شیعہ 32 سے 37 فی صد سنی اور 3 فی صد عیسائی، بہائی، اور ایزدی وغیرہ ہیں۔ ملک کی جی ڈی پی 230 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 5000 ڈالر سے زیادہ ہے۔

تیل کے بے تحاشا ذخائر رکھنے والے ملک کی تاریخ گوری اقوام کی لوٹ مار سے بھری پڑی ہے۔ پہلے برطانوی، اس کے بعد فرانسیسی اور آخر میں امریکی اس ملک کے تیل کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ امریکی اور برطانوی تو اب بھی عراقی تیل کے اصل مالک ہیں۔ بعث پارٹی کے دور میں تیل کی صنعت کو قومیا لیا گیا۔ یہی مختصر سا عرصہ عراق کی تعمیر و ترقی کا تھا۔انقلاب ایران کے فوراً بعد ہی امریکہ اور سعودی عرب نے صدام حسین کو ایران سے بھڑا دیا۔ 8 سال تک جاری رہنے والی اس بے مقصد حنگ کے دوران امریکی، فرانسیسی اور برطانوی کمپنیوں نے اس کثرت سے عراق کو ہتھیار فروخت کیے کہ تیل سے مالامال یہ عرب ملک 120 ارب ڈالر کا مقروض ہو گیا۔
اس جنگ کے فوراً بعد عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا۔ امریکہ سعودی عرب اور اتحادیوں نے عراق پر حملہ کر دیا اور کویت کو آزاد کروانے کے بعد عراق پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں۔ 2003 میں امریکہ نے دوبارہ عراق پر حملہ کر کے ملک پر قبضہ کر لیا۔بڑے پیمانے پر عراقیوں کا خون بہانے کے بعد یہاں پر دکھاوے کی جمہوری حکومت قائم کردیا۔ اور صدام حسین کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اس کے بعد ملک میں مسلکی بنیادوں پر خانہ جنگی پھیل گئی۔ اور رہی سہی کثر داعش نے نکال دی۔ داعش نے ملک میں بہت خون بہایا۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی شروع کردی۔ عراقیوں کی ہمت کی داد دینا پڑے گی۔ عراقی فورسز اور رضاکار ملیشیا ”حشد شعبی“ نے مل کر داعش کے زیر قبضہ علاقے واگزار کرا لئے ہیں۔اب عمومی طور پر ملک میں امن و امان ہے۔ آج پورے بغداد میں عمارتوں پر گولیوں اور بموں کے نشانات ہیں۔ بغداد سے سامرہ شہر کو جائیں تو بربادی کے نظارے سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کوئی عمارت سلامت نہی چھوڑی داعشیوں نے۔ لوگوں کو گھروں سے نکال کر قتل کرتے گئے۔ انگوروں کے باغات کو آگ لگاتے گئے۔ اور راستے میں آنے والی ہر خانقاہ اور مزار کو گراتے چلے گئے۔ملک میں جنگوں کی وجہ سے آنے والی تباہی کے آثار ہر جگہ کثرت سے ہیں۔ جگہ جگہ شکستہ عمارات اور فورسز کی چوکیاں۔ رکنا، تلاشی دینا اور پھر رکنا یہاں عام سی بات ہے۔ یہاں کی کرنسی عراقی دینار ہے۔ ایک امریکی ڈالر کے 1200 عراقی دینار مل جاتے ہیں۔ اگر پاکستانی روپیہ دے کر عراقی دینار لینا چاہیں تو ایک پاکستانی روپیہ کے 8 عراقی دینار ملیں گے۔

یہاں آ کر کئی وجوہات کی بنا پر آپ کو اجنبیت کا احساس نہی ہو گا۔ ایک تو پاکستان کی طرح یہاں بھی جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ملیں گے۔ شاید یہاں بھی صفائی جیسے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے حکومتوں کے پاس فالتو پیسہ نہیں ہے۔ دوسرا پاکستانی کا نام سن کر اکثر عراقی سر پر ہاتھ رکھ کر قدرے جھک کر سلام بھی کرتے ہیں۔ اور مل کر خوش بھی ہوتے ہیں۔ ایرانیوں کے بارے زیادہ اچھی رائے نہی رکھتے۔ شاید سب ملکوں میں لوگ پڑوسیوں سے شاکی رہتے ہیں۔

گاڑیوں کو صاف نہیں رکھتے نہ ہی خود صاف رہنے کا کچھ زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ حساب کتاب میں بہت کمزور ہیں۔ اور انگریزی سے بالکل نا بلد۔ ٹیکسی یا کرائے کی کوئی بھی گاڑی اور ہوٹل دونوں جگہ کافی مول تول کرنا پڑے گا۔ پیسے بہت زیادہ بتاتے ہیں۔

یہاں کے کھانے بہت اچھے ہیں۔ ”فلافل“ یہاں کا مقامی بر گر کہہ لیں۔ کباب اور روٹی اور کئی طرح کے چاول کے پکوان۔ یہاں آلو کی بجائے بینگن کی حکمرانی دیکھی۔ کیونکہ بینگن خود اگاتے ہیں اور آلو بھارت سے منگواتے ہیں۔ جو کہ بہت مہنگا ہے یہاں پاکستانی 280 روپے فی کلو تک آلو بکتے ہیں۔ ادنیٰ درجہ کی بھنڈی یہاں 500 پاکستانی روپے کلو تک ہے۔ پاکستانی برامد کنندگان اگر تھوڑی سی زحمت کر لیں تو اس ملک کو سبزیاں برامد کر کے کروڑوں ڈالر کما سکتے ہیں۔ یہاں پر ہی زندگی میں پہلی بار مچھلی اور گوبھی کو ملا کر پکتے دیکھا اور پلاؤ میں سویاں بھی کھائیں۔ بازاروں میں پھل ہر قسم کے عام ملتے ہیں۔ کیوی فروٹ یہاں 180 پاکستانی روپے کا کلو تھا روز کھاتے رہے۔

مچھلی ٹھیلے پر پانی کا انتظام کر کے زندہ رکھی ہوتی ہے آپ کو ہر وقت تازہ ملے گی۔ پنیر بھی سستا اور وافر ملتا ہے۔ جوس اور ملک شیک کی دکانیں عام ہیں۔ خربوزے کا ملک شیک کمال کا ملتا ہے۔ پیٹرول کا نرخ اس وقت وہاں پاکستانی 45 روپے فی لیٹر ہے۔ گاڑیاں اکثر لوگ بڑی رکھتے ہیں ڈاج، شیور لیٹ، فورڈ، مرسیڈیز اور جی ایم سی کے علاوہ چینی اور ایرانی کاروں کی بھر مار ہے۔ موٹر سائیکل کی بجائے اسکوٹر کا چلن ہے۔

بنیادی طور پر صارف معاشرہ ہے۔ خود کچھ نہی بناتے۔ اکثر چیزیں باہر سے منگواتے ہیں۔ جنگوں نے عراقی معیشیت کی کمر توڑ دی ہے۔ کل تک ڈاج پر فراٹے بھرنے والے اب چنگ چی رکشے چلانے پر مجبور ہیں۔ بھارتی کمپنی بجاج کا رکشہ وہاں 350000 پاکستانی روپوں میں بک رہا ہے۔ اور ایرانی اسکوٹر اور رکشوں کی بھر مار ہے۔ عراق پاکستانی مینو فیکچررز کے لئے بہت اچھی مارکیٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ کپڑا سب چین سے منگوا رہے ہیں پاکستانی گارمنٹ اور کپڑے کی بھی وہاں بہت کھپت ہو سکتی ہے۔

اگرچہ غربت اور بے روزگاری کا چلن زیادہ ہو گیا ہے۔ لیکن تعمیر نو بھی جاری ہے۔ لیکن ابھی بھی ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اور تیل کی دولت بے تحاشا لوٹی جا رہی ہے۔ لیکن بہتری کی امید تو کبھی نہی مرتی۔

عراقی اچھے اور خوش مزاج لوگ ہیں۔ نینو سیگریٹ کا دھواں اڑاتے اور شیشے سے شوق کرتے، قہوہ خانوں میں قہوہ پیتے، باتیں کرتے۔ جنگ کی تلخیوں کو بھلا کر اچھے دنوں کی امید آنکھوں میں لئے اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار رہتے ہیں
(ہم سب ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے )