کیا 2019 ہندوستانی جمہوریت کا ٹرننگ پوائنٹ ہے ؟

اجئے گڈاورتی
ہندوستان میں ہر الیکشن شاندار ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی تہوار کے مماثل ہے جبکہ کچھ دوسرے اسے تبدیلی کا سیزن سمجھتے ہیں۔ ماضی میں انتخابات کا تہوار کا چاہے کوئی بھی ماحول رہا ہو لیکن 2019 میں یہ تہوار کا سیزن کم اور ایک گھمسان کی لڑائی کا ہے ۔ اس الیکشن سے کئی چیزوں کا فیصلہ ہوسکتا ہے چاہے یہ ہندوستان کی جمہوریت سے متعلق کیوں نہ ہو کیونکہ کچھ لوگوں کا احساس ہے کہ اگر نریندر مودی آر ایس ایس کی مدد سے دوبارہ اقتدار پر آجائیں تو دوبارہ کوئی الیکشن آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوگا ۔ اس طرح کے دعووں کی وجہ چاہے کچھ بھی ہو یہ نوٹ کرنا اہمیت کا حامل ہے کہ کس طرح سے 2019 اہمیت کا حامل ہے بہ نسبت ماضی میں ہوئے عام انتخابات کے ۔
سال 2019 ایک ایسے طریقے کو اجاگر کر رہا ہے جہاں کانگریس 44 نشستوں کے ساتھ یہ محسوس کر رہی ہے بات کر رہی ہے اور مہم چلا رہی ہے جیسے وہ اقتدار میں ہو جبکہ بی جے پی 18 ریاستوں میں اقتدار پر ہونے کے باوجود ایک اپوزیشن پارٹی کا طریقہ کار اختیار کئے ہوئے ہے ۔ حالانکہ اس نے اکثریت حاصل کرلی تھی اور وہ طاقتور اکثریتی رائے رکھتی ہے ۔ اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی ہندوستانی رائے دہندوں کے تصور میں جگہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔
نہ صرف اپنی مہم سے بلکہ گذشتہ پانچ سال میں اس کی ساری حکمرانی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کئی طرح سے سیاسی اقتدار کے معاملہ میں ’ بیرونی ‘ ہے ۔ اس کے پاس حکمرانی کا ‘ غیر جانبداری کا ‘ پالیسی سازی کا کوئی آئیڈیا ہی نہیں ہے ۔ اس کے پاس صرف ابتدائی تصور ہی ہے جو آر ایس ایس کی شاکھاوں میں تربیت کے وقت حاصل ہوا تھا ۔ یہ تصور ہر اختلاف کو خطرہ سمجھنا اور اختلاف رائے رکھنے والے ہر شخص کو دشمن سمجھنے کا ہے ۔
گذشتہ پانچ سال کے دوران وزارتوں سے جامعات تک کو بحران میں ڈھکیل دیا گیا ہے ۔ یہ بحران بد سے بدتر ہوچلا ہے ۔ گورنر جموں و کشمیر دعوی کرتے ہیں کہ ہفتے کے اختتام پر ان کا فیکس مشین کام نہیں کرتا ۔ وزارت سے فائیلیں غائب ہوجاتی ہیں پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ غائب نہیں ہوئی ہیں صرف ایک فوٹو کاپی لاپتہ ہے ۔ کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا اور یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائپ کیا ہوا ڈاٹا ملازمتوں کے تعلق سے ہے جسے منظم انداز میں دبایا گیا ہے ۔ چارٹرڈ اکاونٹنٹس کی تنظیم حکومت کی جانب سے جواب دیتی ہے جبکہ نیتی آیوگ حکومت کا ڈاٹا جاری کرتا ہے ۔ سی بی آئی سے ریزرو بینک تک ‘ قومی اعداد و شمار کمیشن تک استعفوں کا سلسلہ چل پڑا اور سپریم کورٹ کے ججس نے احتجاجی پریس کانفرنس بھی کرڈالی ۔
کیا یہ طرز حکمرانی تجربہ کے فقدان کا نتیجہ تھا یہ اداروں کو سبوتاج کرنے کی عمدا کوشش تھی ؟ ۔ کیا اداروں سے غلط انداز سے نمٹنا انتخابی امکانات کا فیصلہ کرنے میں معنی رکھتا ہے ؟ ۔ اگر بی جے پی 2019 میں اقتدار پر آجاتی ہے تو اداروں کو سبوتاج کرنے کا آئندہ قدم کیا ہوگا ؟ ۔ دوسری جانب کیا نتائج اس بات پر اثر انداز ہونگے کہ کانگریس خود کو کس طرح دیکھتی ہے ؟ ۔
کیا نتائج کانگریس کے اس خود ساختہ تصور کو بدلیں گے کہ وہ ایک قومی جماعت ہے یا اتفاق سے اقتدار میں آگئی ہے ؟ ۔ کیا لب و لہجہ بدلے گا ۔ شائد آزادی کے بعد کے دور میں پہلی مرتبہ کانگریس پارٹی خود کو علاقائی جماعتوں کے ساتھ Underdog کا موقف دے پائے گی ؟ ۔
کیا اس سے کانگریس کا نظریاتی کردار بھی تبدیل ہوگا ؟ ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنی اکثریت سے بی جے پی پہلی مرتبہ اقتدار پر آئی ہے اور اس کے اثرات ہر ایک کیلئے موجود ہیں ۔ جو طئے شدہ زبان و بیان اور حالات ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس کی تنظیمی مشنری کتنی منظم ہے ۔
حالانکہ کانگریس اب بھی ایک غیر مرکوز پارٹی ہے ۔ اس نے بیشتر سرکاری عہدہ پیسے کی طاقت رکھنے والے افراد کو یا اپنے طور پر الیکشن جیتنے والوں کو دے دیئے ہیں۔ کئی عرصہ تک وہ اپنے عوامی نمائندوں کے مشتبہ کردار کے تابع رہی ہے ۔ بیشتر کا تعلق کنٹراکٹر کلاس سے رہا ہے اور درمیانی آدمیوں کو بھی اہمیت حاصل رہی ہے جس سے وہ خاندانی حکمرانی کو برقرار رکھ سکی ہے ۔ یہ در اصل دو طرفہ سہولت کا طریقہ کار تھا ۔
کیا راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ وہ ایک قابل قبول نمونہ نہیں ہے اور 2019 میں کیا کانگریس ایک مستحکم نظریاتی پارٹی بن پائے گی یا پھر اس میں مزید انحراف ہوں گے اور قومی سطح پر اس کی اہمیت گھٹتی جائے گی ؟ ۔
سال 2019 اور اس کے بعد کا وقت بی جے پی کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہمیت کا حامل رہے گا ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مودی کے بعد کے دور میں بی جے پی بتدریج زوال کا شکار ہوگی ؟ ۔ مودی نے اس کے عروج میں نمائندگی کی ہے اور وہ آر ایس ایس کے کٹر ایجنڈہ پر عمل کرنے والا چہرہ رہے ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام کو تجربہ ہوا ہے کہ ایک ہندو راشٹرا کیسا ہوگا اور اس کی ترقی کیسی ہوگی ؟ ۔
حالانکہ عوام کی اکثریت کو ابھی اس کا پورا احساس نہ ہوا ہو لیکن مودی نے ہر دستیاب حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس کا آغاز کردیا ہے ۔ اس میں جھوٹی خبریں پھیلانا ‘ ڈرانا دھمکانا ‘ میڈیا پر مکمل کنٹرول اور منتخبہ کارپوریٹ گھرانوں کو نوازنا اور نہ صرف ایک حاشیہ بردار بلکہ اجارہ داری والی سرمایہ داریت کی سمت بڑھنا شامل ہے ۔
سیاست کو بھی پوری طرح سے استعمال کیا گیا ہے ۔ کئی باتیں کسی ثبوت کے بغیر کہی گئی ہیں یا پھر ان میں بعض کو حقیقی دکھانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ۔ عوام کو پوری طرح اس کا احساس شائد نہ ہو لیکن ان کے ذہنوں میں اندیشے ضرور پیدا ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’’ تاریخ خود کو دہراتی ہے ۔ پہلے سانحہ کی طرح اور پھر جھوٹ کی طرح ‘‘ ۔ مودی کا پہلا دور ایک سانحہ تھا کیا دوسرا دور جھوٹ کا ہوگا ؟ ۔
کئی سیاسی قائدین نے حال میں پیش آئے کئی واقعات کی سچائی اور ان کے وقت پر سوال کرنا شروع کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ مودی کے طرز کارکردگی نے نہ صرف مقامی قیادت کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ عمدا دوسرے درجہ کے قائدین کی اہمیت کو تباہ کردیا ہے ۔ ان میں بیشتر اپنا ہی محض خاکہ نظر آنے لگے ہیں۔
چیف منسٹر یو پی یوگی آدتیہ ناتھ کے سوا دوسرا ایسا کون ہے جسے پارٹی پیش کرے اور اسے تائید حاصل ہوجائے ۔ بی جے پی کے پاس کوئی معتبر قومی لیڈر نہیں ہے ۔ اگر کوئی مل بھی جائے تو بیشتر طریقے مودی نے ہی آزما لئے ہیں۔ صرف انہیں کو دہراتے ہوئے رائے دہندوں میں دلچسپی پیدا نہیں کی جاسکتی ۔
سیاست اور تاریخ محض مستحکم امکانات کا نام ہے ۔ کیا ہم 2019 کے بعد تاریخ بنتے ہوئے دیکھیں گے ؟ ۔ کس سمت میں ہم جائیں گے اس کا فیصلہ آئندہ مہینے یا کچھ بعد میں ہوسکتا ہے ۔