’اقلیت‘ کی تشریح کیلئے قومی کمیشن کو 3 ماہ کا وقت

نئی دہلی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج قومی کمیشن برائے اقلیتیں (این سی ایم) کو اندرون 3 ماہ ایک نمائندگی پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے جس میں کسی کمیونٹی کی ریاست واری آبادی کے تناظر میں اصطلاح ’اقلیت‘ کی تشریح کے لئے رہنمایانہ خطوط وضع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی بنچ نے بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے سے کہاکہ اپنی نمائندگی اقلیتی پیانل کو دوبارہ پیش کریں جو اس کے بعد آج کی تاریخ سے 3 ماہ کے اندرون کوئی فیصلہ کرے گا۔ اپادھیائے نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ اصطلاح اقلیت کی کسی ریاست میں کوئی برادری کی آبادی کے تناظر میں ازسرنو تشریح اور اُس پر مکرر غور کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ملک گیر آبادی کے مواد کو ملحوظ رکھا جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہندو جو قومی ڈیٹا کے مطابق اکثریتی کمیونٹی ہیں، کئی شمال مشرقی ریاستوں اور جموں و کشمیر میں اقلیت ہیں۔ تاہم ہندو برادری اُن فوائد سے محروم ہے جو اِن ریاستوں میں اقلیتی برادریوں کے لئے دستیاب ہیں۔
حکومت کو بے نقاب ہونے کی توقع نہ تھی : کانگریس
نئی دہلی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج کہاکہ رافیل معاملت حکومت کی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے بے نقاب ہوتی جارہی ہے جس میں پی ایم او کی جانب سے متوازی مذاکرات اور دفاعی حصولیابی کے معیاری طریقہ کار میں تبدیلیاں جیسے مسائل آشکار ہورہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کا حکومت پر حملہ اخبار ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان معاملت ہندوستانی حکومت کی طرف سے عدیم النظیر رعایتوں کے ساتھ ہوئی جس میں انسداد بدعنوانی جرمانوں کے تعلق سے فقرے شامل کئے گئے اور اس کے بعد بین حکومتی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہاکہ رافیل معاملت حکومت کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آشکار ہورہی ہے۔ سب سے پہلے یہ معلوم ہوا کہ 126 طیاروں کی جگہ محض 36 طیاروں کا کنٹراکٹ طے پایا۔ پی ایم او کی مداخلت کے بعد اب انکشاف ہوا ہے کہ دفاعی حصولیابی کے معیاری طریقہ کار کے فقروں میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ چدمبرم نے الزام عائد کیاکہ اقتدار اعلیٰ کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں ہے، کوئی بینک گیارنٹی بھی نہیں ہے، اس کے باوجود پیشگی رقم ادا کردی گئی۔
مہاراشٹرا : بی جے پی کو 43 نشستوں کا دعویٰ مضحکہ خیز
ممبئی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج بی جے پی کے اِس دعوے کا مضحکہ اُڑایا کہ وہ مہاراشٹرا میں آنے والے عام چناؤ میں 48 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ 43 جیت لے گی۔ شیوسینا نے اِس دعوے کو حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے کہاکہ ریاست کی صورتحال مایوس کن ہے اور تعجب کیاکہ کس طرح بی جے پی اِس قدر نشستیں جیتنے کا سوچ سکتی ہے جبکہ پارٹی زیراقتدار ریاست بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔